کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قران کے حج کا بیان - اس مقام کا ذکر جہاں مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمارے بیان کردہ عمل کا حکم دیا، ان کے عمرہ کے احرام سے آگے بڑھنے کے بعد
حدیث نمبر: 3918
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ ، وَلَيَالِي الْحَجِّ ، وَحَرَمِ الْحَجِّ حَتَّى نَزَلْنَا بِسَرِفٍ ، قَالَتْ : فَخَرَجَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : " مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ ، وَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عَمْرَةً فَلْيَفْعَلْ ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ ، فَلا " ، قَالَتْ : فَالآخِذُ بِهَا ، وَالتَّارِكُ لَهَا مِنْ أَصْحَابِهِ ، قَالَتْ : فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَكَانُوا أَهْلَ قُوَّةٍ ، فَكَانَ مَعَهُمُ الْهَدْيُ ، فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى الْعُمْرَةِ ، قَالَتْ : فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا أَبْكِي ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يُبْكِيكِ يَا هَنْتَاهُ ؟ " ، قُلْتُ : قَدْ سَمِعْتُ قَوْلُكَ لأَصْحَابِكَ ، فَمُنِعْتُ الْعُمْرَةَ ، قَالَ : " وَمَا شَأْنُكِ ؟ " ، قَالَتْ : لا أُصَلِّي ، قَالَ : " فَلا يَضُرُّكِ ، إِنَّمَا أَنْتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِ آدَمِ ، كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكِ مَا كَتَبَ عَلَيْهِنَّ ، فَكُونِي فِي حَجَّتِكِ ، فَعَسَى أَنْ تُدْرِكِيهَا " ، قَالَتْ : فَخَرَجْنَا فِي حَجِّهِ حَتَّى قَدِمْنَا مِنًى ، فَطَهَرْتُ ، ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ مِنًى فَأَفَضْتُ الْبَيْتَ ، قَالَتْ : ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ فِي النَّفْرِ الآخَرِ حَتَّى نَزَلَ الْمُحَصَّبُ ، وَنَزَلْنَا مَعَهُ ، فَدَعَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اخْرُجْ بِأُخْتِكَ مِنَ الْحَرَمِ ، فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ ، ثُمَّ افْرُغَا ، ثُمَّ ائْتِيَا هُنَا ، فَإِنِّي أَنْظُرُكُمَا حَتَّى تَأْتِيَانِي " ، قَالَتْ : فَخَرَجْتُ لِذَلِكَ حَتَّى فَرَغْتُ ، وَفَرَغْتُ مِنَ الطَّوَافِ ، ثُمَّ جِئْتُهُ سَحْرًا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ فَرَغْتُمْ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَذِنَ بِالرَّحِيلِ فِي أَصْحَابِهِ ، فَارْتَحَلَ النَّاسُ ، فَمَرَّ بِالْبَيْتِ قَبْلَ صَلاةِ الصُّبْحِ ، فَطَافَ بِهِ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَرَكِبَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ مُتَوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم حج کے مہینوں میں حج کی راتوں میں حج کے قابل احترام (مخصوص موسم میں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے جب ہم نے سرف کے مقام پر پڑاؤ کیا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے پاس تشریف لے گئے، تو آپ نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے پاس قربانی کا جانور موجود نہ ہو اور وہ اسے عمرے میں تبدیل کرنا چاہتا ہو وہ ایسا کر لے اور جس کے پاس قربانی کا جانور موجود ہو وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: کچھ لوگوں نے اسے موقوف کر دیا اور کچھ لوگوں نے اسے ترک کر دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور کچھ افراد کا تعلق تھا جو صاحب حیثیت تھے اور ان کے ساتھ قربانی کا جانور موجود تھا وہ عمرہ (کر کے احرام نہیں کھول) سکتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو میں رو رہی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم کیوں رو رہی ہو، تو میں نے عرض کی: میں نے آپ کا وہ فرمان سنا ہے، جو آپ نے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا ہے، لیکن میں عمرہ نہیں کر سکتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیوں تمہیں کیا ہوا؟ میں نے عرض کی: میں نماز ادا نہیں کر سکتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کوئی نقصان نہیں ہے۔ تم آدم کی بیٹیوں سے تعلق رکھنے والی ایک عورت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر بھی وہی چیز مقرر کی ہے، جو ان پر مقرر کی ہے۔ تم اپنے حج کو جاری رکھو۔ عنقریب تم اسے (یعنی عمرے کو) پا لو گی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم لوگ حج کے لیے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ ہم منیٰ آ گئے اور میں پاک ہو گئی۔ پھر میں منیٰ سے نکلی میں نے بیت اللہ کا طواف افاضہ کیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آخری روانگی میں نکلی، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی محصب میں پڑاؤ کیا۔ آپ کے ہمراہ ہم نے بھی پڑاؤ کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ارشاد فرمایا: تم اپنی بہن کو حرم سے باہر لے جاؤ اسے عمرے کا احرام بندھوا لاؤ۔ تم دونوں فارغ ہو کر یہاں آ جانا میں تم دونوں کا انتظار کروں گا، جب تک تم آ نہیں جاتے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اس موقع پر میں نکلی، یہاں تک کہ میں (عمرہ کر کے فارغ ہو گئی) اور میں طواف کر کے فارغ ہوئی پھر میں سحری کے وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ فارغ ہو گئے ہو؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو روانگی کا حکم دیا۔ ہم نے روانگی کی تیاری کر لی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر بیت اللہ کے پاس سے، صبح کی نماز سے پہلے ہوا آپ نے اس کا طواف کیا پھر (مکہ مکرمہ سے) تشریف لے گئے اور مدینہ منورہ کی طرف چل پڑے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحج / حدیث: 3918
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (3784). تنبيه!! رقم (3784) = (3795) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3907»