کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قران کے حج کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ قارن دو طواف اور دو سعي کرتا ہے
حدیث نمبر: 3916
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ كَفَاهُ لَهُمَا طَوَافٌ وَاحِدٌ ، وَلا يَحِلَّ حَتَّى يَوْمِ النَّحْرِ ، ثُمَّ يَحِلُّ مِنْهُمَا جَمِيعًا " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جو شخص حج اور عمرے کو اکٹھا کر لے تو ایک ہی طواف ان دونوں کے لیے کافی ہو گا اور ایسا شخص اس وقت تک احرام نہیں کھولے گا، جب تک قربانی کا دن نہیں آ جاتا پھر وہ ان دونوں کا احرام ایک، ہی دفعہ کھولے گا ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحج / حدیث: 3916
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (33)، «التعليقات الجياد» (4/ 71). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3905»
حدیث نمبر: 3917
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ، ثُمَّ لا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا " ، قَالَتْ : فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ ، وَلا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " انْقُضِي رَأْسَكِ ، وَامْتَشِطِي ، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ ، وَدَعِي الْعُمْرَةَ " ، قَالَتْ : فَفَعَلْتُ ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ ، أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ ، فَاعْتَمَرْتُ ، فَقَالَ : " هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ " ، قَالَتْ : فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ حَلُّوا ، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى بِحَجِّهِمْ ، وَأَمَّا الَّذِينَ كَانُوا أَهَلُّوا بِالْحَجِّ وَجَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ ، فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حجۃ الوداع کے موقع پر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے ہم نے عمرے کا تلبیہ پڑھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور موجود ہو وہ عمرے کے ساتھ حج کا بھی تلبیہ پڑھے پھر وہ اس وقت تک احرام نہیں کھولے گا، جب تک وہ ان دونوں سے فارغ نہیں ہو جاتا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب میں مکہ آئی، تو مجھے حیض آ گیا میں نے بیت اللہ کا طواف بھی نہیں کیا اور صفا و مروہ کی سعی بھی نہیں کی۔ میں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی،، تو آپ نے ارشاد فرمایا: تم اپنے بال کھول کر ان میں کنگھی کر لو اور حج کا تلبیہ پڑھنا شروع کرو اور عمرے کو چھوڑ دو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے ایسا ہی کیا جب ہم نے حج مکمل کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عبدالرحمن بن ابوبکر کے ہمراہ تنعیم بھیجا وہاں سے میں نے عمرہ کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ تمہارے عمرے کی جگہ ہو گیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جن لوگوں نے عمرے کا تلبیہ پڑھا تھا انہوں نے بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کرنے کے بعد احرام کھول دیا۔ پھر انہوں نے منی سے واپس آنے کے بعد حج کے لیے دوسری مرتبہ طواف کیا جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جنہوں نے حج کا تلبیہ پڑھا تھا انہوں نے حج اور عمرے کو جمع کر لیا تھا، تو انہوں نے ایک ہی مرتبہ طواف کیا تھا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحج / حدیث: 3917
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - وهو مختصر (3901). تنبيه!! رقم (3901) = (3912) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3906»