کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: قران کے حج کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو ہدی ساتھ لائے وہ اپنا احرام حج اور عمرہ دونوں کے لیے کرے
حدیث نمبر: 3912
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهلِلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، ثُمَّ لا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا " ، قَالَتْ : فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ أَحَلُّوا ، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ ، وَأَمَّا الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ ، وَجَمَعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا ، قَالَتْ : فَقَدِمْتُ مَكَّةَ ، وَأَنَا حَائِضٌ ، لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ ، وَلا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " انْقُضِي رَأْسَكِ ، وَامْتَشِطِي ، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ ، وَدَعِي الْعُمْرَةَ " ، قَالَتْ : فَفَعَلْتُ ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ ، أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ ، فَاعْتَمَرْتُ ، فَقَالَ : " هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حجتہ الوداع کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے ہم نے عمرے کا احرام باندھا ہوا تھا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور موجود ہو وہ حج اور عمرے کا تلبیہ پڑھے اور وہ اس وقت احرام نہیں کھولے گا، جب تک وہ ان دونوں سے فارغ نہیں ہو جاتا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان کرتی ہیں: جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا (یا جو عمرے کا تلبیہ پڑھ رہے تھے) انہوں نے بیت اللہ کا طواف کرنے اور صفا و مروہ کی سعی کرنے کے بعد احرام کو کھول دیا جب وہ لوگ منی سے واپس آئے، تو انہوں نے اپنے حج کے لیے دوسری مرتبہ طواف کیا، البتہ جن لوگوں نے حج کا تلبیہ پڑھا تھا انہوں نے حج اور عمرے کو جمع کر دیا تھا، تو انہوں نے ایک ہی مرتبہ طواف کیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں مکہ آئی، تو مجھے حیض آ چکا تھا میں بیت اللہ کا طواف بھی نہیں کر سکی اور صفا و مروہ کی سعی بھی نہیں کر سکی میں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی، تو آپ نے ارشاد فرمایا: تم اپنے بالوں کو کھول دو کنگھی کر لو اور حج کا تلبیہ پڑھو اور عمرے کو چھوڑ دو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے ایسا ہی کیا جب میں نے حج مکمل کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عبدالرحمن بن ابوبکر کے ہمراہ تنعیم بھیجا، تو وہاں سے میں نے (عمرے کا تلبیہ پڑھا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ تمہارے اس عمرے کی جگہ ہو گیا۔