کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - اس گھاٹی کا ذکر جو حاجی کے لیے مستحب ہے کہ وہ مکہ سے اس کے ذریعے نکلے
حدیث نمبر: 3908
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاتَ بِذِي طُوًى حَتَّى صَلَّى الصُّبْحَ ، ثُمَّ دَخَلَ مَكَّةَ ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ مِنْ كَدَاءِ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا الَّتِي بِالْبَطْحَاءِ ، وَخَرَجَ مِنْ ثَنِيَّةِ السُّفْلَى " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی طوی میں رات بسر کی پھر آپ نے صبح کی نماز ادا کی اس کے بعد مکہ میں داخل ہوئے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں بطحا میں موجود بالائی گھاٹی کداء کی طرف سے داخل ہوئے تھے اور (واپس جاتے ہوئے) آپ آب زیریں گھاٹی کی طرف سے تشریف لے گئے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحج / حدیث: 3908
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1629 - 1630): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3897»