کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ایامِ تشریق میں جمار کو کنکریاں مارنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو حاجی اور معتمر کے لیے تجارت کی اجازت کی دلیل ہے
حدیث نمبر: 3894
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " عُكَاظُ وَذُو الْمَجَازِ أَسْوَاقٌ كَانَتْ لَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَلَمَّا جَاءَ اللَّهُ بِالإِسْلامِ كَأَنَّهُمْ تَأَثَّمُوا ، أَنْ يَتَّجِرُوا فِي الْحَجِّ ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَلَتْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ سورة البقرة آية 198 فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:۔ عکاظ، ذوالجاز یہ زمانہ جاہلیت کے بازار تھے (جو حج کے موقع پر لگا کرتے تھے) جب اللہ تعالیٰ نے اسلام (کو غلبہ عطا کر دیا)، تو لوگوں نے حج کے موقع پر تجارت کرنے کو گناہ سمجھا لوگوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ” تم لوگوں پر کوئی گناہ نہیں ہے، اگر تم اپنے پروردگار کا فضل تلاش کرتے ہو ۔“ (اس سے مراد یہ ہے) کہ حج کے موقع پر ایسا کرتے ہو۔