کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ایامِ تشریق میں جمار کو کنکریاں مارنے کا بیان - آدمی کے جمرات کی رمی اور اس وقت اس کے کھڑے ہونے کی صفت کا ذکر جب تک کہ وہ رمی کرے
حدیث نمبر: 3887
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : " أَنَّهُ كَانَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ الأُولَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ، ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فَيَقُومُ مُسْتَقْبِلا الْقِبْلَةَ قِيَامًا طَوِيلا فَيَدْعُو ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ ، ثُمَّ يَرْمِي الْجَمْرَةَ ذَاتَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ، وَلا يَقِفُ عِنْدَهَا ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ ، وَيَقُولُ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے: وہ پہلے جمرہ کو سات کنکریاں مارتے تھے ہر کنکری کے ہمراہ تکبیر کہتے تھے پھر آگے بڑھ جاتے اور قبلہ کی طرف رخ کر کے کھڑے ہو جاتے وہ طویل قیام کرتے تھے اور دعا مانگتے تھے۔ دونوں ہاتھوں کو بلند کرتے تھے پھر ذات عقبہ والے جمرہ کو وادی کے نشیبی حصے سے کنکریاں مارتے تھے وہ اس کے پاس ٹھہرتے نہیں تھے پھر واپس آ جاتے تھے اور یہ کہتے تھے: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحج / حدیث: 3887
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2073) «صحيح أبي داود» (1722): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح إسناده قوي
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3876»