کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: حلق اور قربانی کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ ذبح اور رمی اس سے کیا جائے جو حلق اور نحر کو ان پر مقدم کرے، اور اس فعل پر کوئی حرج نہ ہو
حدیث نمبر: 3877
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى لِلنَّاسِ ، يَسْأَلُونَهُ ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَشْعُرْ ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْبَحْ وَلا حَرَجَ " ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ؟ ، فَقَالَ : " ارْمِ وَلا حَرَجَ " ، فَمَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلا أُخِّرَ إِلا ، قَالَ : " افْعَلْ وَلا حَرَجَ " .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حجتہ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منی میں لوگوں کے لیے وقوف کیے ہوئے تھے۔ لوگ آپ سے مسائل دریافت کر رہے تھے۔ ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے پتہ نہیں تھا میں نے رمی کرنے سے پہلے ہی قربانی کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اب رمی کر لو کوئی حرج نہیں ہے (راوی کہتے ہیں:) اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی بھی چیز کے پہلے یا بعد میں کیے جانے کے بارے میں پوچھا: جاتا، تو آپ یہی فرماتے: تم اب کر لو کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحج / حدیث: 3877
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1758): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3866»