کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جمرة عقبہ کو کنکریاں مارنے کا بیان - جمرات کی رمی کے لیے استعمال ہونے والے کنکریوں کی صفت کا ذکر
حدیث نمبر: 3871
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَوْفٌ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الْعَالِيَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ الْعَقَبَةِ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى رَاحِلَتِهِ : " هَاتِ الْقُطْ لِي " ، فَلَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ ، وَهِيَ حَصَى الْخَذْفِ ، فَلَمَّا وَضَعْتُهُنَّ فِي يَدِهِ ، قَالَ : " نَعَمْ ، بِأَمْثَالِ هَؤُلاءِ ، بِأَمْثَالِ هَؤُلاءِ ، وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الْغُلُوُّ فِي الدِّينِ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: عقبہ کی صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر وقوف کیے ہوئے تھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: آگے آؤ اور مجھے کنکریاں چن دو۔ میں نے آپ کو کنکریاں چن کر دیں جو اتنی چھوٹی تھیں جو چٹکی میں آ سکے جب میں نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر رکھا، تو آپ نے فرمایا: جی ہاں! اسی طرح کی ہونی چاہیئے اسی طرح کی ہونی چاہیئے تم لوگ دین میں غلو کرنے سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے کے لوگ دین میں غلو کرنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحج / حدیث: 3871
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1213). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3860»