کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: عرفات اور مزدلفہ میں وقوف اور وہاں سے روانگی کا بیان - عرفات کو جانے اور وہاں سے منیٰ کی طرف روانگی کی صفت کا ذکر
حدیث نمبر: 3855
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، انْهُ كَانَ رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَقَفَ يُهَلِّلُ ، وَيُكَبِّرُ اللَّهَ وَيَدْعُوهُ ، فَلَمَّا نَفَرَ دَفَعَ النَّاسُ ، فَصَاحَ : " عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ " ، فَلَمَّا بَلَغَ الشِّعْبَ إِهْرَاقَ الْمَاءَ وَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ رَكِبَ ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمُزْدَلِفَةَ ، جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ، فَلَمَّا صَلَّى الصُّبْحَ وَقَفَ ، فَلَمَّا نَفَرَ ، دَفَعَ النَّاسَ ، فَقَالَ حِينَ دَفَعُوا : " عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ " ، وَهُوَ كَافٌّ رَاحِلَتَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلَ بَطْنَ مِنًى ، قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةَ " وَهُوَ فِي ذَلِكَ يُهِلُّ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرنے کے دوران «لا الہ الا اللہ» پڑھتے رہے۔ اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا ذکر کرتے رہے اور اس سے دعا مانگتے رہے۔ جب آپ روانہ ہوئے، تو لوگ روانہ ہو چکے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں انہیں حکم دیا آرام سے چلو جب آپ گھاٹی میں پہنچے، تو آپ نے پانی بہایا اور وضو کیا پھر آپ سوار ہوئے جب آپ مزدلفہ تشریف لائے، تو آپ نے مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کیں جب آپ نے صبح کی نماز ادا کر لی، تو آپ ٹھہرے رہے جب آپ روانہ ہوئے، تو لوگ بھی روانہ ہوئے جب لوگ روانہ ہوئے، تو آپ نے فرمایا: تم لوگ آرام سے چلو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی سواری کی لگام کو کھینچے ہوئے تھے، یہاں تک کہ جب آپ منی کے نشیبی حصے میں داخل ہوئے، تو آپ نے فرمایا: تم پر ایسی کنکریاں چننا لازم ہیں جو چٹکی میں آ جائیں، وہ جمرہ کو ماری جائیں گی اور اس مقام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تلبیہ پڑھتے رہے، یہاں تک کہ آپ نے جمرہ کی رمی کر لی۔