کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: عرفات اور مزدلفہ میں وقوف اور وہاں سے روانگی کا بیان - اس بات کا ذکر کہ عرفہ کے دن عرفات میں موجود شخص کے لیے آگ سے آزادی کی امید ہے
حدیث نمبر: 3853
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ هُوَ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ أَيَّامٍ أَفْضَلُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ أَيَّامِ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ " ، قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هُنَّ أَفْضَلُ أَمْ عِدَّتُهُنَّ جِهَادًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " هُنَّ أَفْضَلُ مِنْ عِدَّتِهِنَّ جِهَادًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَمَا مِنْ يوْمٍ أَفْضَلُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ يوْمِ عَرَفَةَ يَنْزِلُ اللَّهُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيُبَاهِي بِأَهْلِ الأَرْضِ أَهْلَ السَّمَاءِ ، فَيَقُولُ : انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي شُعْثًا غُبْرًا ضَاحِينَ جَاءُوا مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ يَرْجُونَ رَحْمَتِي ، وَلَمْ يَرَوْا عَذَابِي ، فَلَمْ يُرَ يَوْمٌ أَكْثَرُ عِتْقًا مِنَ النَّارِ مِنْ يوْمِ عَرَفَةَ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هِشَامٌ هَذَا هُوَ هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الدَّسْتُوَائِيُّ ، وَالدَّسْتَوَاءُ قَرْيَةٌ مِنْ قُرَى الأَهْوَازِ ، وَإِنَّمَا سُمِّيَ الدَّسْتُوَائِيَّ لأَنَّهُ كَانَ يَبِيعُ الثِّيَابَ الَّتِي تُحْمَلُ مِنْهَا فَنُسِبَ إِلَيْهَا .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” اللہ کے نزدیک ذوالج کے دس دنوں سے زیادہ فضیلت والے دن اور کوئی نہیں ہیں۔ راوی کہتے ہیں: ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ دن زیادہ فضیلت رکھتے ہیں یا اتنے ہی دن اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے گزارنا زیادہ فضیلت رکھتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دن اتنے ہی دن اللہ کی راہ میں جہاد کے دوران گزارنے سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرفہ کے دن سے زیادہ فضیلت والا دن اور کوئی نہیں ہے اس دن میں اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا ہے اور آسمان والوں کے سامنے اہل زمین پر فخر کا اظہار کرتا ہے اور فرماتا ہے: میرے ان بندوں کو دیکھو یہ بکھرے ہوئے بال لے کر اور غبار آلود ہو کر آئے ہیں یہ دور دراز علاقوں سے آئے ہیں یہ میری رحمت کی امید رکھتے ہیں انہوں نے میرے عذاب کو نہیں دیکھا ہوا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:)، تو ایسا کوئی دن نظر نہیں آیا جس دن میں عرفہ کے دن سے زیادہ تعداد میں لوگ جہنم سے آزاد ہوتے ہوں ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ہشام نامی یہ راوی ہشام بن ابوعبداللہ دستوائی ہے۔ دستواء، اہواز کی ایک بستی ہے۔ ان کا نام دستوائی اس لیے رکھا گیا کیونکہ یہ دستواء سے لا کر کپڑے فروخت کیا کرتے تھے تو ان کی نسبت اس شہر کی طرف ہو گئی۔