کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مکہ سے منیٰ کے لیے نکلنے کا بیان - اس بات کی اجازت کہ منیٰ سے عرفات جانے والا تلبیہ اور تکبیر کہے
حدیث نمبر: 3847
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيُّ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ ، كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فَقَالَ : " كَانَ يُهِلُّ الْمُهِلُّ بِمِنًى ، فَلا يُنْكِرُ عَلَيْهِ ، وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ ، فَلا يُنْكِرُ عَلَيْهِ " .
محمد بن ابوبکر ثقفی بیان کرتے ہیں:۔ انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا یہ دونوں اس وقت منی سے عرفہ کی طرف جا رہے تھے (سوال یہ تھا) آج کے دن آپ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کیا، کیا تھا۔ انہوں نے بتایا: منی میں تلبیہ پڑھنے والا شخص تلبیہ پڑھ رہا تھا، تو اس پر انکار نہیں کیا گیا اور تکبیر کہنے والا (تکبیر کہہ رہا تھا) تو اس پر بھی انکار نہیں کیا گیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحج / حدیث: 3847
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (1659)، م (4/ 72). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3836»