کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: صفا اور مروہ کے درمیان سعی کا بیان - اس بات کی اجازت کہ آدمی کسی عذر کی وجہ سے صفا و مروہ کے درمیان سعي سواری پر کرے
حدیث نمبر: 3845
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : قُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ : أَرَأَيْتَ هَذَا الرَّمَلَ بِالْبَيْتِ ثَلاثَةَ أَطْوَافٍ ، وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ ، أَسُنَّةٌ هُوَ ، فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ سَنَةٌ ؟ ، فَقَالَ : صَدَقُوا ، وَكَذَبُوا ، قُلْتُ : مَا قَوْلُكَ صَدَقُوا ، وَكَذَبُوا ؟ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مَكَّةَ ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ : إِنَّ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ لا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَطُوفُوا بِالْبَيْتِ مِنَ الْهُزَالِ ، قَالَ : وَكَانُوا يَحْسُدُونَهُ ، قَالَ : " فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْمُلُوا ثَلاثًا ، وَيَمْشُوا أَرْبَعًا " ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : أَخْبَرَنِي عَنِ الطَّوَافِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ رَاكِبًا ، سَنَةٌ هُوَ ، فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ سَنَةٌ ؟ ، قَالَ : صَدَقُوا ، وَكَذَبُوا ، قَالَ : قُلْتُ : مَا قَوْلُكَ صَدَقُوا ، وَكَذَبُوا ؟ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثُرَ عَلَيْهِ النَّاسُ يَقُولُونَ : هَذَا مُحَمَّدٌ ؟ ، هَذَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى خَرَجَتِ الْعَوَاتِقُ مِنَ الْبُيُوتِ ، قَالَ : " وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يَصْرِفُ النَّاسَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَلَمَّا كَثُرَ عَلَيْهِ رَكِبَ " ، وَالْمَشْيُ وَالسَّعْيُ أَفْضَلُ .
ابوطفیل بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: آپ کی رمل کے بارے میں کیا رائے ہے۔ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے تین چکروں میں رمل کرنا اور چار چکروں میں عام رفتار سے چلنا سنت ہے؟ آپ کی قوم کے افراد، تو یہ کہتے ہیں: یہ سنت ہے انہوں نے فرمایا: انہوں نے کچھ بات ٹھیک بیان کی ہے اور کچھ بات غلط بیان کی ہے میں نے دریافت کیا: آپ کی اس بات سے کیا مراد ہے کہ انہوں نے کچھ بات ٹھیک بیان کی ہے اور کچھ بات غلط بیان کی ہے۔ انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ تشریف لائے، تو مشرکین نے یہ بات کہی: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کمزوری کی وجہ سے بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکیں گے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:۔ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حسد کرتے تھے، راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ لوگ تین چکروں میں رمل کریں اور چار چکروں میں عام رفتار سے چلیں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ان سے دریافت کیا: مجھے صفا اور مروہ کا طواف کرنے کے بارے میں بتائیں کہ کیا اسے سوار ہو کر کرنا سنت ہے؟ آپ کی قوم کے لوگ تو یہ کہتے ہیں: یہ سنت ہے۔ سیدنا ابن عباس نے فرمایا: انہوں نے کچھ بات صحیح بیان کی ہے اور کچھ بات غلط بیان کی ہے میں نے ان سے دریافت کیا: آپ کے اس قول کا کیا مطلب ہے کہ انہوں نے کچھ بات صیح بیان کی ہے اور کچھ بات غلط بیان کی ہے، تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد لوگوں کا ہجوم زیادہ ہو گیا تھا۔ جو یہ کہہ رہے تھے: یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، یہاں تک کہ خواتین گھروں سے نکل آئی تھیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سامنے سے لوگوں کو ہٹا نہیں رہے تھے ان لوگوں کا ہجوم زیادہ ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے ویسے پیدل چلنا اور دوڑنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔