کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: صفا اور مروہ کے درمیان سعی کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ صفا و مروہ کے درمیان سعي حاجی اور معتمر پر فرض ہے، اسے ترک کرنا جائز نہیں
حدیث نمبر: 3839
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ : أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ، فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ ، فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 ، فَمَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ شَيْئًا أَنْ لا يَطُوفَ بِهِمَا ، قَالَتْ عَائِشَةُ : " كَلا ، لَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولُ كَانَتْ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لا يَطَّوَّفَ بِهِمَا ، إِنَّمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِي الأَنْصَارِ ، كَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ ، وَكَانَتْ مَنَاةُ حَذْوَ قُدَيْدٍ ، وَكَانُوا يَتَحَرَّجُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَلَمَّا جَاءَ الإِسْلامُ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ، فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ ، فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا ، وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا ، فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ سورة البقرة آية 158 " .
ہشام بن عروہ اپنے والد (عروہ بن زبیر) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میں ان دنوں کم سن تھا۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ ” بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرتا ہے یا عمرہ کرتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا۔ اگر وہ ان دونوں کا طواف کر لیتا ہے “ میں یہ سمجھتا ہوں اگر کوئی شخص ان دونوں کا طواف نہیں کرتا، تو اس پر کوئی حرج نہیں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ایسا ہرگز نہیں ہے، اگر اس طرح ہوتا جس طرح تم بیان کر رہے ہو، تو آیت یہ ہونی چاہیئے تھی۔ ” اس شخص پر کوئی گناہ نہیں ہے، جو ان کا طواف نہ کرے “ (پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وضاحت کی) یہ آیت کچھ انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو مناۃ (نامی بت) کا احرام باندھتے تھے وہ لوگ صفا اور مروہ کی سعی کرنے میں حرج محسوس کرتے تھے۔ جب اسلام آیا، تو لوگوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ” بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا۔ اگر وہ ان کا طواف کر لیتا ہے اور جو شخص نفلی طور پر نیکی کرتا ہے، تو بے شک اللہ تعالیٰ شکر قبول کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے ۔“