کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مکہ میں داخل ہونے کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ غیر مسلم یا ننگا شخص بیت عتیق کا طواف کرے
حدیث نمبر: 3820
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْمُحَرَّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أُنَادِي بِالْمُشْرِكِينَ ، فَكَانَ عَلِيٌّ إِذَا صَحِلَ صَوْتُهُ ، أَوِ اشْتَكَى حَلْقُهُ ، أَوْ عَيِيَ مِمَّا يُنَادِي نَادَيْتُ مَكَانَهُ ، قَالَ : فَقُلْتُ لأَبِي : أَيَّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَقُولُونَ ؟ قَالَ : كُنَّا نَقُولُ : " لا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ ، فَمَا حَجَّ بَعْدَ ذَلِكَ الْعَامِ مُشْرِكٌ ، وَلا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ ، وَلا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلا مُؤْمِنٌ ، وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُدَّةٌ ، فَمُدَّتُهُ إِلَى أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ ، فَإِذَا قُضِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ ، فَإِنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ " ، قَالَ : فَكَانَ الْمُشْرِكُونَ ، يَقُولُونَ : لا بَلْ شَهْرٌ يَضْحَكُونَ بِذَلِكَ .
محرر بن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ مشرکین کے بارے میں اعلان کر رہا تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی آواز جب بیٹھ گئی اور ان کے حلق میں درد شروع ہو گیا اور وہ بلند آواز میں اعلان کرنے کے قابل نہ رہے، تو ان کی جگہ میں یہ اعلان کرنے لگا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اپنے والد سے دریافت کیا: آپ لوگوں نے کیا اعلان کیا تھا، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: ہم لوگ یہ کہہ رہے تھے اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا، تو اس سال کے بعد کسی مشرک نے حج نہیں کیا اور کوئی برہنہ شخص بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا اور جنت میں صرف مومن داخل ہو گا اور جس شخص کے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کسی مدت تک کا کوئی معاہدہ ہے، تو اس کے ختم ہونے کی مدت چار ماہ ہے جب چار ماہ گزر جائیں گے، تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مشرکین سے لاتعلق ہوں گے۔ تو مشرکین اس بات کا مذاق اڑاتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے: جی نہیں، ایک مہینہ ہی کافی ہے۔