کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مکہ میں داخل ہونے کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر لوگوں نے کعبہ کی تعمیر کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں تک محدود رکھا
حدیث نمبر: 3816
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ رُومَانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا : " يَا عَائِشَةُ لَوْلا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِالْجَاهِلِيَّةِ ، لَهَدَمْتُ الْبَيْتَ حَتَّى أُدْخِلَ فِيهِ مَا أَخْرَجُوا مِنْهُ فِي الْحِجْرِ ، فَإِنَّهُمْ عَجَزُوا عَنْ نَفَقَتِهِ ، وَأَلْصَقْتُهُ بِالأَرْضِ ، وَوَضَعْتُهُ عَلَى أَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ ، وَجَعَلْتُ لَهُ بَابَيْنِ ، بَابًا شَرْقِيًّا ، وَبَابًا غَرْبِيًّا " ، قَالَ : فَكَانَ هَذَا الَّذِي دَعَا ابْنَ الزُّبَيْرِ إِلَى هَدْمِهِ وَبِنَائِهِ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے عائشہ رضی اللہ عنہا اگر تمہاری قوم زمانہ جاہلیت کے قریب نہ ہوتی، تو میں بیت اللہ کو منہدم کروا کے اس میں وہ حصہ داخل کر دیتا جو انہوں نے اس میں سے نکال دیا تھا جو حطیم ہے ان لوگوں کے پاس خرچ کم ہو گیا تھا، تو انہوں نے اسے زمین کے ساتھ ملا دیا اور میں اسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے مطابق تعمیر کرتا میں اس کے دو دروازے بناتا۔ ایک دروازہ مشرق کی سمت ہوتا اور ایک مغرب کی سمت ہوتا۔ راوی بیان کرتے ہیں: اسی وجہ سے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے منہدم کروا کے اس کی تعمیر نو کروائی تھی۔
حدیث نمبر: 3817
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ سَأَلَ الأَسْوَدَ ، وَكَانَ يَأْتِي عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، وَكَانَتْ تُفْضِي إِلَيْهِ ، قَالَ الأَسْوَدُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةِ ، لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ ، وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ " ، فَهَدَمَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، وَجَعَلَ لَهَا بَابَيْنِ .
اسود بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسود سے سوال کیا وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آیا جایا کرتے تھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان پر خصوصی شفقت کرتی تھیں۔ اسود نے بتایا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بتائی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” اگر تمہاری قوم زمانہ جاہلیت کے قریب نہ ہوتی، تو میں خانہ کعبہ کو منہدم کروا دیتا اور اس کے دو دروازے بنواتا ۔“ راوی کہتے ہیں: اس لیے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے منہدم کروا کے اس کے دو دروازے بنوائے تھے۔