کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: احرام کا بیان - اس تلبیہ کی صفت کا ذکر جو آدمی کہتا ہے جب وہ حج یا عمرہ کا ارادہ کرے
حدیث نمبر: 3799
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ تَلْبِيَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ ، لا شَرِيكَ لَكَ " ، قَالَ نَافِعٌ : وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَزِيدُ فِيهَا : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کے یہ الفاظ تھے: ” میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں ہے میں حاضر ہوں بیشک حمد اور نعمت تیرے لیے مخصوص ہے اور بادشاہی بھی، تیرا کوئی شریک نہیں ہے ۔“ نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس میں ان الفاظ کا اضافہ کرتے تھے۔ ” میں حاضر ہوں سعادت تجھ سے حاصل ہو سکتی ہے۔ میں حاضر ہوں رغبت تیری طرف کی جا سکتی ہے اور امر بھی تیری طرف جاتا ہے ۔“