کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: احرام کا بیان - اس مقام کا ذکر جہاں مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا گیا جو ہم نے بیان کیا
حدیث نمبر: 3798
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالَقَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فِي بَطْنِ الرَّوْحَاءِ إِذْ أَقْبَلَ وَفْدٌ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : مَنْ أَنْتُمْ ؟ ، فَقَالَ : نَحْنُ الْمُسْلِمُونَ ، ثُمَّ قَالَتِ امْرَأَةٌ : مَنْ أَنْتَ ؟ ، قَالَ : أَنَا رَسُولُ اللَّهِ ، فَأَخْرَجَتْ صَبِيًّا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِهَذَا حَجٌّ ؟ ، فَقَالَ : وَلَكِ أَجْرٌ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ” روحا “ کے نشیبی علاقے سے گزر رہے تھے سامنے سے کچھ لوگ آئے ان میں سے ایک صاحب نے دریافت کیا: آپ کون لوگ ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہم مسلمان ہیں۔ پھر ایک خاتون نے دریافت کیا: آپ کون ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں۔ اس خاتون نے اپنے بچے کو نکالا اور دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا اس کا حج ہو گیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جی ہاں) اور تمہیں بھی اجر ملے گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحج / حدیث: 3798
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3787»