کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: احرام کا بیان - اس بات کا بیان کہ ہمارے پہلے بیان کردہ تین خبروں سے مراد خالص حج کے احرام سے ہے کہ بعض صحابہ نے یہ کیا، نہ کہ سب نے
حدیث نمبر: 3795
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ ، وَلَيَالِي الْحَجِّ ، وَحَرَمِ الْحَجِّ ، حَتَّى نَزَلْنَا بِسَرِفَ ، قَالَتْ : فَخَرَجَ إِلَى الصَّحَابَةِ ، فَقَالَ : " مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ ، وَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عَمْرَةً فَلْيَفْعَلْ ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ ، فَلا " ، قَالَتْ : فَالآخِذُ بِهَا ، وَالتَّارِكُ لَهَا مِنْ أَصْحَابِهِ ، قَالَتْ : فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَكَانُوا أَهَلَ قُوَّةٍ ، وَكَانَ مَعَهُمُ الْهَدْيُ ، فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى الْعُمْرَةِ ، قَالَتْ : فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا أَبْكِي ، فَقَالَ : " مَا يُبْكِيكِ يَا هَنْتَاهُ ؟ " ، قُلْتُ : قَدْ سَمِعْتُ قَوْلَكَ لأَصْحَابِكَ ، فَمُنِعْتُ الْعُمْرَةَ ، قَالَ : " وَمَا شَأْنُكِ ؟ " ، قُلْتُ : لا أُصَلِّي ، قَالَ : " فَلا يَضُرُّكِ ، إِنَّمَا أَنْتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكِ مَا كَتَبَ عَلَيْهِنَّ ، فَكُونِي فِي حَجَّتِكِ فَعَسَى أَنْ تُدْرِكِيهَا " ، قَالَتْ : فَخَرَجْنَا فِي حَجَّتِهِ حَتَّى قَدِمْنَا مِنًى فَطَهَرْتُ ، ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ مِنًى ، فَأَفَضْتُ الْبَيْتَ ، قَالَتْ : ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ فِي النَّفْرِ الآخَرِ حَتَّى نَزَلَ الْمُحَصَّبُ ، وَنَزَلْنَا مَعَهُ ، فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَ : " اخْرُجْ بِأُخْتِكَ مِنَ الْحَرَمِ ، فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ ، ثُمَّ افْرُغَا ، ثُمَّ ائْتِيَا هَا هُنَا ، فَإِنِّي أَنْظُرُكُمَا حَتَّى تَأْتِيَانِي " ، قَالَتْ : فَخَرَجْتُ لِذَلِكَ حَتَّى فَرَغْتُ ، وَفَرَغْتُ مِنَ الطَّوَافِ ، ثُمَّ جِئْتُهُ سَحْرًا ، فَقَالَ : " هَلْ فَرَغْتُمْ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَآذَنَ بِالرَّحِيلِ فِي أَصْحَابِهِ ، فَارْتَحَلَ النَّاسُ ، فَمَرَّ بِالْبَيْتِ قَبْلَ صَلاةِ الصُّبْحِ ، فَطَافَ بِهِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَرَكِبَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ مُتَوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم حج کے مہینے میں حج کے دنوں میں حج کے احرام میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے جب ہم نے ” سرف “ کے مقام پر پڑاؤ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے پاس تشریف لے گئے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے ہمراہ قربانی کا جانور موجود نہ ہو اور وہ اسے عمرہ میں تبدیل کرنا چاہتا ہے وہ ایسا کر لے، لیکن جس کے ساتھ قربانی کا جانور موجود ہے وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: کچھ لوگوں نے اس حکم پر عمل کیا اور کچھ نے اسے ترک کر دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جہاں تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب میں سے کچھ افراد کا تعلق تھا جو صاحب حیثیت تھے اور ان کے ساتھ قربانی کا جانور موجود تھا وہ عمرہ (میں تبدیل) نہیں کر سکتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو میں رو رہی تھی۔ آپ نے فرمایا: اے خاتون تم کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کی: میں نے آپ کا وہ فرمان سنا ہے، جو آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا ہے، لیکن میں اب عمرہ نہیں کر سکتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ میں نے عرض کی: میں نماز ادا نہیں کر سکتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تمہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ تم آدم کی بیٹیوں میں سے ایک عورت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر بھی وہی چیز مقرر کی ہے، جو ان پر مقرر کی ہے تم حج کرتی رہو۔ تمہیں عمرے کا بھی موقع مل جائے گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر ہم لوگ حج کے لیے روانہ ہوئے ہم منی آ گئے پھر میں پاک ہو گئی۔ پھر میں منی سے روانہ ہوئی میں نے طواف افاضہ کیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ آخری روانگی کے وقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئی، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی محصب میں پڑاؤ کیا آپ کے ہمراہ ہم نے بھی پڑاؤ کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن ابوبکر کو بلوایا آپ نے فرمایا: اپنی بہن کو حرم سے باہر لے جاؤ اور اسے عمرہ کروا لاؤ پھر تم دونوں فارغ ہو کے فلاں مقام پر آ جانا میں تم دونوں کے آنے کا انتظار کروں گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: تو میں اس کام کے لیے روانہ ہوئی۔ پھر میں اس سے فارغ ہوئی پھر میں طواف سے فارغ ہوئی۔ پھر سحری کے وقت وہاں آئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم لوگ فارغ ہو گئے ہو میں نے عرض کی: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو روانگی کا حکم دیا۔ لوگوں نے روانگی کی تیاری کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز سے پہلے خانہ کعبہ کے پاس سے گزرے آپ نے اس کا طواف کیا۔ پھر آپ وہاں سے باہر نکلے اور سوار ہو گئے۔ پھر آپ مدینہ منورہ کی طرف رخ کر کے روانہ ہو گئے۔