کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: احرام کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو حج کے لیے احرام باندھے وہ مکہ آنے پر اسے عمرہ بنا لے جب تک کہ وہ وہاں سے حج شروع نہ کرے
حدیث نمبر: 3791
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا لَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ غَيْرُهُ ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ ، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحِلَّ ، قَالَ : " أَحِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عَمْرَةً " ، فَبَلَغَهُ عَنَّا أَنَا ، نَقُولُ : لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلا خَمْسًا أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ ، نَرُوحُ إِلَى مِنًى ، وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ مِنَ الْمَنِيِّ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا ، فَقَالَ : " قَدْ بَلَغَنِي الَّذِي قُلْتُمْ ، وَإِنِّي لأَبَرُّكُمْ وَأَتْقَاكُمْ ، وَلَوْلا الْهَدْيُ لَحَلَلْتُ ، وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ " ، قَالَ : وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ ، فَقَالَ : " بِمَ أَهْلَلْتَ ؟ ، قَالَ : بِمَا أَهَلَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَاهْدِ ، وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ " ، قَالَ : وَقَالَ لَهُ سُرَاقَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عُمْرَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا أَمْ لِلأَبَدِ ؟ ، قَالَ : فَقَالَ : " بَلْ لِلأَبَدِ " .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے صرف حج کا احرام باندھا تھا اس کے ہمراہ اور کوئی چیز نہیں تھی۔ ہم ذوالج کی چار تاریخ کی صبح مکہ پہنچ گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم احرام کھول دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ احرام کھول دو اسے عمرے میں تبدیل کر لو۔ پھر آپ کو ہمارے بارے میں یہ پتہ چلا کہ ہم یہ کہتے ہیں: اب ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف پانچ دن باقی رہ گئے ہیں، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں احرام کھولنے کا حکم دے رہے ہیں کیا ہم ایسی حالت میں منی کی طرف جائیں گے کہ ہماری شرمگاہوں سے منی ٹپک رہی ہو گی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں نے جو بات کہی ہے وہ مجھ تک پہنچ گئی ہے۔ میں تم سب سے زیادہ نیکوکار اور پرہیزگار ہوں۔ اگر میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لایا ہوتا اور مجھے بعد میں جو خیال آیا ہے، اگر وہ پہلے آ جاتا، تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا (اور میں بھی احرام کھول دیتا) راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم نے کیا نیت کی ہے؟ انہوں نے بتایا: وہی نیت کی ہے، جو احرام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم قربانی کا جانور ساتھ لائے ہو تم احرام باندھے رہو، جس طرح ہو۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! (حج کے احرام کو) عمرے میں تبدیل کرنے کا یہ حکم اس سال کے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحج / حدیث: 3791
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1569): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3780»