کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: احرام کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ محرم کے لیے جوتوں اور پاجامے کا پہننا جائز ہے جب ایزار اور نعلین نہ ہوں
حدیث نمبر: 3780
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالا : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : جَلَسْتُ إِلَى أَبِي حَنِيفَةَ بِمَكَّةَ ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنِّي لَبِسْتُ خُفَّيْنِ وَأَنَا مُحْرِمٌ ، أَوْ قَالَ : لَبِسْتُ سَرَاوِيلَ وَأَنَا مُحْرِمٌ ، شَكَّ إِبْرَاهِيمُ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو حَنِيفَةَ : عَلَيْكَ دَمٌ قَالَ : فَقُلْتُ لِلرَّجُلِ وَجَدْتُ نَعْلَيْنِ ، أَوْ وَجَدْتُ إِزَارًا ؟ ، فَقَالَ لا ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا حَنِيفَةَ إِنَّ هَذَا يَزْعُمُ أَنَّهُ لَمْ يَجِدْ ، فَقَالَ : " سَوَاءٌ وَجَدَ ، أَوْ لَمْ يَجِدْ " .
حماد بن زید بیان کرتے ہیں: میں مکہ میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: میں نے احرام کے دوران موزے پہن لیے ہیں (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں) میں نے شلوار پہن لی جبکہ میں نے احرام باندھا ہوا تھا۔ یہ شک ابراہیم نامی راوی کو ہے، تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے اس کو فرمایا: تم پر دم دینا لازم ہو گا حماد بن زید کہتے ہیں: میں نے اس شخص سے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس جوتے ہیں۔ کیا تمہارے پاس تہبند ہے؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں میں نے کہا: اے ابوحنیفہ! یہ شخص، تو یہ کہتا ہے کہ اس کے پاس، تو وہ ہے ہی نہیں، تو امام ابوحنیفہ نے فرمایا: یہ حکم برابر ہے خواہ وہ اس کے پاس ہو یا اس کے پاس نہ ہو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحج / حدیث: 3780
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني تنبيه هام هذا الحديث تابع للذي بعده في كلا الطبعتين وتم ترقيمه في كلا الطبعتين أيضا، وانظر إلى أحكام الشيخين في الحديث الآتي. وكان الأفضل أن يكون هذا الحديث والثلاثة الآتية بعده تحت رقم واحد ولتبيين الارتباط بين هذه الأحاديث انظر إلى هذا الشرح المختصر للقصة. حكم أبو حنيفة على السائل بقوله: «عليك دم». فقال حماد بن زيد للرجل: «وجدت نعلين، أو وجدت إزارا؟ » فقال الرجل: «لا» فقال حماد بن زيد: - معترضا على حكم أبي حنيفة - «يا أبا حنيفة إن هذا يزعم أنه لم يجد؟! » فقال أبو حنيفة: «سواء وجد، أو لم يجد» فرد حماد بن زيد على أبي حنيفة بثلاثة أحاديث تخالفه في قوله «سواء وجد، أو لم يجد» وهي 3781 - فقلت - القائل هو حماد بن زيد - حدثنا عمرو بن دينار، عن جابر ... لمن لم يجد النعلين» 3782 - وحدثنا أيوب، عن نافع، عن ابن عمر ... لمن لم يجد النعلين» 3783 - وحدثني أبو إسحاق، عن الحارث، ... فما بال صاحبكم يقول كذا وكذا؟ » انظر إلى الحديث الآتي والذي بعده والذي بعده. - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3772»
حدیث نمبر: 3781
فَقُلْتُ حَدَّثَنَا فَقُلْتُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " السَّرَاوِيلُ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الإِزَارَ ، وَالْخُفَّانِ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ " .
تو میں نے کہا: عمرو بن دینار نے جابر بن زید کے حوالے سے سیدنا عبداللہ عباس رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” شلوار وہ شخص پہن سکتا ہے، جسے تہبند میسر نہ ہو اور موزے وہ شخص پہن سکتا ہے، جسے جوتے میسر نہ ہوں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحج / حدیث: 3781
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (153)، «صحيح أبي داود» (1605). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3772/ 1»
حدیث نمبر: 3782
وَحَدَّثَنَا وَحَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " السَّرَاوِيلُ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الإِزَارَ ، وَالْخُفَّانِ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ " . قَالَ : فَقَالَ بِيَدِهِ ، وَأَشَارَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، كَأَنَّهُ لَمْ يَعْبَأْ بِالْحَدِيثِ ، فَقُمْتُ مِنْ عِنْدَهُ ، فَتَلَقَّانِي قَالَ : فَقَالَ بِيَدِهِ ، وَأَشَارَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، كَأَنَّهُ لَمْ يَعْبَأْ بِالْحَدِيثِ ، فَقُمْتُ مِنْ عِنْدَهُ ، فَتَلَقَّانِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ دَاخِلَ الْمَسْجِدِ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا أَرْطَاةَ ، مَا تَقُولُ فِي مُحْرِمٍ لَبَسَ السَّرَاوِيلَ ، أَوْ لَبَسَ الْخُفَّيْنِ ؟ ، فَقَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " السَّرَاوِيلُ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الإِزَارَ ، وَالْخُفَّانِ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ " .
ایوب نے نافع کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کیا ہے۔ ” شلوار وہ شخص پہن سکتا ہے، جسے تہبند میسر نہ ہو اور موزے وہ شخص پہن سکتا ہے، جسے جوتے میسر نہ ہوں ۔“ راوی کہتے ہیں: تو انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا، ابراہیم بن حجاج نے اشارہ کر کے بتایا کہ گویا انہوں نے حدیث کی کوئی پرواہ نہیں کی، تو میں ان کے پاس سے اٹھ گیا پھر حجاج بن ارطاۃ کی مجھ سے ملاقات مسجد کے اندر ہوئی، تو میں نے کہا: اے ارطاۃ ایسے محرم کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں: جو شلوار پہن لیتا ہے یا موزے پہن لیتا ہے، تو انہوں نے فرمایا: عمرو بن دینار نے جابر بن زید کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے۔ ” شلوار وہ شخص پہن سکتا ہے، جسے تہبند دستیاب نہ ہو اور موزے وہ شخص پہن سکتا ہے جسے جوتے دستیاب نہ ہوں ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحج / حدیث: 3782
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3772/ 2»
حدیث نمبر: 3783
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّهُ قَالَ : " السَّرَاوِيلُ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الإِزَارَ ، وَالْخُفَّانِ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ النِّعَالَ " ، قَالَ : قُلْتُ : فَمَا بَالُ صَاحِبِكُمْ ، يَقُولُ كَذَا وَكَذَا ؟ ! .
ابواسحاق نے حارث کے حوالے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان نقل کیا ہے: شلوار وہ شخص پہن سکتا ہے، جسے تہبند دستیاب نہ ہو اور موزے وہ شخص پہن سکتا ہے، جسے جوتے دستیاب نہ ہوں ۔“ حماد بن زید کہتے ہیں: میں نے کہا: آپ لوگوں کے ساتھی کا کیا معاملہ ہے وہ، تو اس طرح کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحج / حدیث: 3783
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. *قال الناشر: والأسانيد الثلاثة المكررة - هنا - من جهة حماد بن زيد في السند السابق لها. *قال الناشر: هذا الحديث - والحديثان قبله - أخذوا ترقيما متسلسلا في «طبعة المؤسسة»! وأمَّا في «الأصل»: فجُعلت أرقامهم بين معقوفين، ووضعت فيها نقاط! ولعلَّ الصواب صنيعنا، والله أعلم. تنبيه!! قول الناشر: والأسانيد الثلاثة المكررة - هنا - من جهة حماد بن زيد في السند السابق لها. معنى كلام الناشر: أن إسناد الحديث رقم (3772) الموافق لـ (3780) من «طبعة المؤسسة» هو إسناد الأحاديث الثلاثة الآتية بعده وذلك أن هذه الأحاديث كلها رواها حماد بن زيد، ورواها عنه إبراهيم بن الحجاج السامي، ورواها عنه الحسن بن سفيان الشيباني، وأحمد بن علي بن المثنى. وانظر إلى التنبيه في الحديث رقم (3780) ليتبين لك الأمل أكثر. - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3772/ 3*»