کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: احرام کا بیان - اس بات کی اجازت کہ حاجی اپنے بھائی کے احرام کی تلبیہ کہے چاہے اس نے اس کی تلبیہ اپنے کانوں سے نہ سنی ہو، بشرطیکہ اسے معلوم ہو کہ وہ اس کے بعد ہے
حدیث نمبر: 3776
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَرْوَانَ الأَصْفَرَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ عَلِيًّا قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِمَ أَهْلَلْتَ ؟ " ، قَالَ : أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَإِنِّي لَوْلا أَنَّ مَعِيَ الْهَدْيَ لَحَلَلْتُ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے تشریف لائے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: تم نے کیا احرام باندھا ہے (یعنی کیا نیت کی ہے) انہوں نے جواب دیا: میں نے وہی احرام باندھا ہے، جو اللہ کے نبی نے باندھا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر میرے ساتھ قربانی کا جانور ہوتا تو میں احرام کھول دیتا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحج / حدیث: 3776
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الحج الكبير»، «الإرواء» (1006): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3768»