کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: میقاتِ حج کا بیان - اس بات کی اجازت کہ معتمر ذی القعدہ میں عمرہ کرے
حدیث نمبر: 3764
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ ، كُلُّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ : عَمْرَةُ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ ، وَعُمْرَةٌ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ ، وَعُمْرَةٌ مِنَ الْجِعْرَانَةِ حِينَ قَسَّمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ ، وَعُمْرَةٌ مَعَ حَجَّتِهِ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے ہیں وہ سب ذیقعدہ کے مہینے میں تھے۔ ایک عمرہ حدیبیہ سے کیا تھا جو ذیقعدہ کے مہینے میں ہوا۔ ایک اس سے اگلے سال ذیقعدہ کے مہینے میں کیا تھا۔ ایک عمرہ جعرانہ سے کیا تھا جب آپ نے غزوہ حنین کے مال غنیمت کو تقسیم کیا تھا یہ بھی ذیقعدہ میں ہوا تھا ایک عمرہ آپ نے حج کے ہمراہ کیا تھا۔
حدیث نمبر: 3765
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْجَعْفَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " وَاللَّهِ مَا أُعْمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْحِجَّةِ إِلا لِيَقْتَطِعَ بِذَلِكَ أَمْرَ أَهْلِ الشِّرْكِ ، فَإِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنْ قُرَيْشٍ ، وَمِنْ دَانَ دِينَهُمْ ، كَانُوا يَقُولُونَ : إِذَا عَفَا الْوَبَرُ ، وَبَرَأَ الدَّبَرُ ، وَدَخَلَ صَفَرُ ، فَقَدْ حَلَّتِ الْعُمْرَةُ لِمَنِ اعْتَمَرَ ، وَكَانُوا يُحَرِّمُونَ الْعُمْرَةَ حَتَّى يَنْسَلِخَ ذُو الْحِجَّةِ ، فَمَا أُعْمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ إِلا لِيَنْقُضَ ذَلِكَ مِنْ قَوْلِهِمْ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! اللہ کے رسول نے ذوالحج کے مہینے میں عمرہ اس لیے نہیں کیا، تاکہ اس کے ذریعے اہل شرک کی روایت کو ختم کریں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ قریش اور ان کے دین کے پیروں کار لوگ کہا: کرتے تھے جب اونٹ کے بال بڑھ جائیں اور اس کی پشت پر موجود زخم ٹھیک ہو جائے، (یعنی حاجی کے پالان رکھنے کی وجہ سے جو زخم بنتا ہے) اور صفر کا مہینہ شروع ہو جائے تو عمرہ کرنے والے کے لیے عمرہ کرنا جائز ہو جاتا ہے وہ لوگ ذوالحج کے مہینے میں عمرہ کرنے کو حرام قرار دیتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو عمرہ اسی لیے کروایا تھا، تاکہ ان لوگوں کے اس قول کے برخلاف کریں۔