کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مدینہ کے فضائل کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم کے درختوں کو کاٹا جائے
حدیث نمبر: 3752
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِيهِ الْحَارِثِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ الْجُهَنِيِّ ثُمَّ الرَّبْعِيِّ أَنَّهُ ، سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ : لَنَا غَنَمٌ وَغِلْمَانٌ ، وَهُمْ يُخَبِّطُونَ عَلَى غَنَمِهِمْ هَذِهِ الثَّمَرَةَ الْحُبْلَةَ ، وَهِيَ ثَمَرَةُ السَّمَرِ ؟ ، فَقَالَ جَابِرُ : لا ، ثُمَّ قَالَ : لا يُخْبَطُ ، وَلا يُعْضَدُ مُحْرِمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَكِنْ هُشُّوا هَشًّا ، ثُمَّ قَالَ : " إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَنْهانَا أَنْ نَقْطَعَ الْمَسَدَ وَمِرْوَدَ الْبَكَرَةِ " .
حارث بن رافع بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا وہ بولے: ہماری بکریاں بھی ہیں اور بال بچے بھی ہیں، تو ان بال بچوں نے اپنی ان بکریوں کو پتے توڑ کر دینے ہوتے ہیں اور جو اس سمر کے درخت کے ہوتے ہیں، تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی نہیں۔ پھر انہوں نے فرمایا: یہاں کے پتوں کو توڑا نہیں جائے گا اور یہاں کے (درخت کو) کاٹا نہیں جائے گا، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرم قرار دیا ہے، البتہ تم لوگ آرام سے جھاڑ سکتے ہو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحج / حدیث: 3752
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1777): م - أبي سعيد نحوه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3744»