کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مدینہ کے فضائل کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ مدینہ کے علماء دوسروں کے علماء سے زیادہ عالم ہوں گے
حدیث نمبر: 3736
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : سَأَلْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ ، وَهُوَ جَالِسٌ مُسْتَقْبِلٌ الْحَجَرَ الأَسْوَدَ ، فَأَخْبَرَنِي ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوشِكُ أَنْ يَضْرِبَ الرَّجُلُ أَكْبَادَ الإِبِلِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ ، فَلا يَجِدُ عَالِمًا أَعْلَمَ مِنْ عَالِمِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ " ، قَالَ أَبُو مُوسَى : بَلَغَنِي عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، انْهُ كَانَ ، يَقُولُ : نَرَى أَنَّهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، فَقَالَ : إِنَّمَا الْعَالِمُ مَنْ يخْشَى اللَّهَ ، وَلا نَعْلَمُ أَحَدًا كَانَ أَخْشَى لِلَّهِ مِنَ الْعُمَرِيِّ يُرِيدُ بِهِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ جب لوگ علم کے حصول کے لیے اونٹوں کے جگر پگھلا دیں گے (یعنی انتہائی زیادہ سفر کریں گے)، لیکن انہیں کوئی ایسا عالم نہیں ملے گا جو اہل مدینہ کے عالم سے بڑا عالم ہو ۔“ ابوموسیٰ نامی راوی بیان کرتے ہیں: مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ ابن جریج یہ فرماتے تھے: ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے مراد سیدنا امام مالک رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں نے اس بات کا تذکرہ سفیان سے کیا، تو انہوں نے فرمایا: عالم وہ شخص ہوتا ہے، جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو اور ہمیں ایسے کسی شخص کا علم نہیں ہے، جو عمری سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو، اس کی مراد عبداللہ بن عبدالعزیز تھا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحج / حدیث: 3736
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «المشكاة» (246). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات لكن فيه عنعنة ابن جريج وأبي الزبير
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3728»