کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مدینہ کے فضائل کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ مدینہ کے لوگ لوگوں میں سے بہترین ہیں اور اس سے رغبت ترک کر کے نکلنے والے بدترین ہیں
حدیث نمبر: 3734
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ ، يَدْعُو الرَّجُلُ ابْنَ عَمِّهِ ، وَقَرِيبِهِ : هَلُمَّ إِلَى الرَّخَاءِ هَلُمَّ إِلَى الرَّخَاءِ ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا يَخْرُجُ أَحَدٌ مِنْهَا رَغْبَةً عَنْهَا إِلا أَخْلَفَ اللَّهُ فِيهَا خَيْرًا مِنْهُ ، أَلا إِنَّ الْمَدِينَةَ كَالْكِيرِ تُخْرِجُ الْخَبَثَ ، وَلا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَنْفِيَ الْمَدِينَةُ شِرَارَهَا كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ ایک شخص اپنے چچازاد اور اپنے قریبی رشتے داروں کو بلائے گا کہ سہولت کی طرف آؤ سہولت کی طرف آؤ، حالانکہ اگر انہیں علم ہو، تو مدینہ ان کے لیے زیادہ بہتر ہے اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہاں سے بے رغبتی اختیار کرتے ہوئے جو بھی شخص نکلے گا، تو اللہ تعالیٰ اس شخص سے زیادہ بہتر شخص (مدینہ منورہ کو) عطا کر دے گا خبردار مدینہ بھٹی کی مانند ہے، جو خرابی کو نکال دیتا ہے اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک مدینہ اپنے برے لوگوں کو یوں نہیں نکال دے گا جیسے بھٹی لوہے کے میل (یا زنگ) کو نکال دیتی ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحج / حدیث: 3734
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» تحت (274). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3726»