کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مدینہ کے فضائل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ ایمان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر مدینہ میں جمع ہوتا ہے
حدیث نمبر: 3728
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ زِيَادٍ السُّوسِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةَ ، كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الإِيمَانُ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ " يُرِيدُ بِهِ أَهْلَ الإِيمَانِ ، وَذَلِكَ أَنَّ الْمَدِينَةَ خَشِنَةٌ قَفْرَةٌ ذَاتُ بَسَابِسَ وَدَكَادِكَ ، مَنَعَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا عَنْهَا طَيِّبَاتِ اللَّذَّاتِ فِي الأَعْيُنِ وَالأَنْفُسِ ، وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا لِمَنْ طَلَبَ اللَّهَ وَالدَّارَ الآخِرَةَ ، فَلا يَرْكَنُ إِلَيْهَا إِلا كُلُّ مُشَمَّرٍ ، عَنْ هَذِهِ الْفَانِيَةِ الزَّائِلَةِ ، وَلا قَطَنَهَا إِلا كُلُّ مُنْقَلِعٍ بِكُلِّيَّتِهِ إِلَى الآخِرَةِ الدَّائِمَةِ .
سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” بے شک ایمان مدینہ منورہ کی طرف یوں پلٹ آئے گا جس طرح سانپ اپنے بل کی طرف پلٹتا ہے ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” ایمان مدینہ منورہ کی طرف سمٹ آئے گا “ اس سے مراد اہل ایمان ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے: مدینہ منورہ ایک خشک علاقہ ہے جہاں خشک زمین اور ریت کے ٹیلے زیادہ ہیں یہاں اللہ تعالیٰ نے وہ چیزیں نہیں رکھی ہیں جو آنکھوں اور جان کو لذیذ اور پاکیزہ محسوس ہوتی ہیں جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے گھر کی طلب کا ارادہ کرتا ہے اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں خوراک رکھی ہے۔ اس لیے مدینہ منورہ کی طرف صرف وہی شخص مائل ہو سکتا ہے، جو اس فنا ہونے والی اور زائل ہو جانے والی دنیا سے لاتعلق ہو اور اس کی طرف وہی شخص راغب ہو سکتا ہے، جو مکمل طور پر ہمیشہ رہنے والی آخرت کی طرف متوجہ ہو۔