کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مدینہ کے فضائل کا بیان - اس خبر کا ذکر جو سننے والے کو یہ وہم دلاتا ہے کہ ظاہری الفاظ خطاب کے ظاہر میں ان کی کیفیت کو مضمر کیے بغیر استعمال نہیں ہوتے
حدیث نمبر: 3725
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُحُدٍ ، وَقَالَ : " إِنَّ أُحُدًا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ " ، يُرِيدُ أَهْلَ الْجَبَلِ ، كَقَوْلِهِ جَلَّ وَعَلا وَأُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ سورة البقرة آية 93 يُرِيدُ حُبَّ الْعِجْلِ ، وَكَقَوْلِهِ جَلَّ وَعَلا وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ سورة يوسف آية 82 يُرِيدُ بِهِ أَهْلَ الْقَرْيَةِ ، وَالْقَصْدُ فِيهِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ، فَأَطْلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِطَابَ الْمَقْصُودِ بِهِ الْمَدِينَةَ عَلَى الْجَبَلِ الَّذِي هُوَ أُحُدٌ عَلَى سَبِيلِ الْمُقَارَبَةِ بَيْنَهُمَا وَالْمُجَاوَرَةِ .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کی طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا: ” بے شک احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ” ایک پہاڑ جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں “ اس سے مراد پہاڑ پر رہنے والے لوگ ہیں۔ اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ” تو ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں میں بچھڑے کو ڈال دیا گیا “ اس سے مراد بچھڑے کی محبت ہے اور اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے۔ ” تم بستی سے دریافت کرو “ اس سے مراد بستی میں رہنے والے لوگ ہیں۔ اور (حدیث میں مذکور الفاظ) سے مراد اہل مدینہ ہیں تو یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث کے الفاظ کو یوں استعمال کیا ہے کہ وہ پہاڑ جو احد ہے اس سے مقصود مدینہ منورہ لیا ہے، تو یہ ان دونوں کے درمیان مقاربت اور مجاور ت کے طور پر ہو گا۔