کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مدینہ کے فضائل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے دعا کی کہ وہ مدینہ کو مکہ کی محبت یا اس سے زیادہ محبوب بنائے
حدیث نمبر: 3724
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا ، قَالَتْ : لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ ، وَبِلالٌ ، قَالَتْ : فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا ، فَقُلْتُ : يَا أَبَتِ كَيْفَ تَجِدُكَ ؟ ، وَيَا بِلالُ كَيْفَ تَجِدُكَ ؟ ، قَالَتْ : وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى ، يَقُولُ : كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَكَانَ بِلالُ رَحِمَهُ اللَّهُ إِذَا أُقْلِعَ عَنْهُ يَرْفَعُ عَقِيرَتَهُ ، وَيَقُولُ : أَلا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَة بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلٌ وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلٌ قَالَتْ عَائِشَةُ : فَجِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ ، وَصَحِّحْهَا لَنَا ، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا ، وَانْقُلْ حُمَّاهَا ، وَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الْعِلَّةُ فِي دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بْنَقْلِ الْحُمَّى إِلَى الْجُحْفَةِ ، أَنَّ الْجُحْفَةَ حِينَئِذٍ كَانَتْ دَارَ الْيَهُودِ ، وَلَمْ يَكُنْ بِهَا مُسْلِمٌ ، فَمِنْ أَجْلِهِ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَانْقُلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو بخار ہو گیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں ان کے پاس آئی۔ میں نے پوچھا: ابا جان آپ کا کیا حال ہے؟ اے بلال آپ کا کیا حال ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بخار ہوا، تو وہ یہ شعر پڑھتے تھے۔ ” ہر شخص اپنے گھر والوں کے پاس صبح کرتا ہے، حالانکہ موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہوتی ہے ۔“ جب سیدنا بلال رضی اللہ عنہ، اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے، ان کی طبیعت کچھ بہت ہوتی تھی، تو وہ بلند آواز میں یہ پڑھتے تھے۔ ” ہائے افسوس کیا میں اس وادی میں کبھی رات بسر کر سکوں گا کہ میرے ارد گرد اذخر اور جلیل (مکہ کی مخصوص گھاس) ہو گی کیا میں کبھی کسی دن مجنہ کے پانی تک پہنچ پاؤں گا کیا شامہ اور طفیل (نامی پہاڑ) میرے سامنے آئیں گے ۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا، تو آپ نے دعا کی: ” اے اللہ! تو مدینہ کو بھی ہمارے نزدیک اسی طرح محبوب کر دے جس طرح ہمیں مکہ سے محبت ہے بلکہ (مدینہ کو) زیادہ محبوب کر دے اور اسے ہمارے لیے صحت افزاء بنا دے اور ہمارے لیے اس کے صاع اور اس کے مد میں برکت دیدے اور یہاں کے بخار کو یہاں سے منتقل کر دے اسے حجفہ منتقل کر دے ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے، بخار کے حجفہ کی طرف منتقل ہونے، کی دعا کرنے کی علت یہ ہے: ان دنوں حجفہ یہودیوں کی بستی تھی۔ وہاں کوئی مسلمان نہیں تھا۔ اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ” کہ اس کے بخار کو حجفہ کی طرف منتقل کر دے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحج / حدیث: 3724
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج فقه السيرة» (173)، «الصحيحة» (2584): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3716»