حدیث نمبر: 3723
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، سَمِعْتُ أَبَا الْحُبَابِ سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى ، يَقُولُونَ : يَثْرِبُ ، وَهِيَ الْمَدِينَةُ تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى " لَفْظَةُ تَمْثِيلٍ ، مُرَادُهَا أَنَّ الإِسْلامَ يَكُونُ ابْتِدَاؤُهُ مِنَ الْمَدِينَةِ ، ثُمَّ يَغْلِبُ عَلَى سَائِرِ الْقُرَى ، وَيَعْلُو عَلَى سَائِرِ الْمُلْكِ ، فَكَأَنَّهَا قَدْ أَتَتْ عَلَيْهَا ، لا أَنَّ الْمَدِينَةَ تَأْكُلُ الْقُرَى .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” مجھے ایک ایسی بستی کے بارے میں حکم دیا گیا ہے، جو تمام بستیوں کو اپنی لپیٹ میں لے گی۔ لوگ یہ کہتے ہیں: یہ یثرب ہے، حالانکہ یہ مدینہ ہے یہ لوگوں کو یوں باہر نکال دے گا جیسے بھٹی لوہے کے زنگ کو ختم کر دیتی ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” مجھے ایک بستی کے بارے میں حکم دیا گیا ہے، جو دیگر بستیوں کو کھا جائے گی۔ “ یہ مثال بیان کرنے کے الفاظ ہیں اور اس سے مراد یہ ہے: اسلام کا آغاز مدینہ منورہ سے ہو گا اور پھر وہ دیگر بستیوں پر غالب آ جائے گا اور پورے ملک پر غالب آ جائے گا تو یہ اس طرح ہو گا جیسے مدینہ پورے ملک پر غالب آ گیا۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ مدینہ دیگر بستیوں کو کھا جائے گا۔