کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مکہ کے فضائل کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ اللہ کے حرم میں قریشی کو قتل کیا جائے، جب تک کہ وہ کوئی ایسا جرم نہ کرے جو اسلام میں اس کے قتل کا جواز پیش کرے
حدیث نمبر: 3718
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ زَكَرِيَّا ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَامِرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُطِيعًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ : " لا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " ، وَلَمْ يُدْرِكِ الْمُسْلِمُونَ أَحَدًا مِنْ كُفَّارِ قُرَيْشٍ غَيْرَ مُطِيعٍ ، وَكَانَ اسْمَهُ الْعَاصِ ، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُطِيعًا .
سیدنا مطیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ” آج کے بعد قیامت کے دن تک کسی بھی قریشی کو باندھ کر قتل نہیں کیا جائے گا ۔“ اس دن مسلمانوں کو کفار مکہ سے صرف سیدنا مطیع رضی اللہ عنہ ہاتھ لگے تھے ان کا عاص تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکا نام مطیع رکھا۔