کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مکہ کے فضائل کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ اللہ کے حرم کے کانٹوں کو توڑا جائے یا اس کا گرا ہوا شکار اٹھایا جائے، سوائے اس کے کہ آدمی اس کا اعلان کرے
حدیث نمبر: 3715
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا فَتْحَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ ، قَتَلَتْ هُذَيْلُ رَجُلا مِنْ بَنِي لَيْثٍ بِقَتِيلٍ كَانَ لَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا حَبَسَ الْفِيلَ عَنْ مَكَّةَ ، وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ ، وَإِنَّهَا لا تَحِلُّ لأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي ، وَلا تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِي ، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ، وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ ، ثُمَّ هِيَ حَرَامٌ ، لا يُعْضَدُ شَجَرُهَا ، وَلا يُخْتَلَى شَوْكُهَا ، وَلا يُلْتَقَطُ سَاقِطُهَا إِلا لِمُنْشِدٍ ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ ، فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ ، إِمَّا أَنْ يَقْتُلَ ، وَإِمَّا أَنْ يَفْدِيَ " ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ : أَبُو شَاهٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اكْتُبُوا لِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اكْتُبُوا لأَبِي شَاهٍ " ، ثُمَّ قَامَ الْعَبَّاسُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِلا الإِذْخِرَ ، فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي قُبُورِنَا ، وَفِي بُيُوتِنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِلا الإِذْخِرَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے لیے مکہ کو فتح کر دیا، تو ہذیل نے بنولیث سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو اپنے ایک مقتول کے عوض میں قتل کر دیا یہ زمانہ جاہلیت کا معاملہ تھا اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی۔ آپ کھڑے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے ہاتھیوں کو مکہ تک نہیں پہنچنے دیا، لیکن اس نے اپنے رسول اور اہل ایمان کو اس پر غلبہ عطا کیا مجھ سے پہلے کسی بھی شخص کے لیے یہ حلال نہیں ہوا تھا اور میرے بعد بھی یہ کسی کے لیے حلال نہیں ہو گا میرے لیے بھی دن کے ایک مخصوص حصے میں اسے حلال قرار دیا گیا اور یہ اب اس گھڑی کے بعد قابل احترام ہے یہاں کے درخت کو کاٹا نہیں جائے گا یہاں کے کانٹے کو توڑا نہیں جائے گا۔ یہاں کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا نہیں جائے گا، البتہ اعلان کرنے کے لیے اٹھایا جا سکتا ہے، جس شخص کا کوئی عزیز قتل ہوا تھا اسے دو باتوں میں سے ایک بات کا اختیار ہو گا، یا تو وہ (قاتل کو) قتل کر دے یا پھر فدیہ وصول کر لے۔ (راوی بیان کرتے ہیں:) یمن سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کھڑے ہوئے جن کا نام ابوشاہ تھا۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ یہ مجھے لکھوا دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوشاہ کو لکھ کر دے دو پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! صرف اذخر (کاٹنے کی اجازت دیں)، کیونکہ ہم اسے قبرستان میں استعمال کرتے ہیں اور گھروں میں بھی استعمال کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اذخر (کا حکم مختلف ہے یعنی اسے کاٹنے کی اجازت ہے)۔