کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: حج کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کی اجازت کہ آدمی اگر اس سال حج فرض ہونے کے باوجود اسے مؤخر کرے تو دوسرے سال ادا کر سکتا ہے
حدیث نمبر: 3707
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي قَوْلِهِ بَرَاءَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ سورة التوبة آية 1 : " لَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ ، اعْتَمَرَ مِنَ الْجِعْرَانَةِ ، ثُمَّ أَمَّرَ أَبَا بَكْرٍ عَلَى تِلْكَ الْحِجَّةِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں۔ ” اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے اظہار لاتعلقی ہے ۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے واپس تشریف لائے، تو آپ نے ” جعرانہ“ سے عمرہ کیا تھا پھر آپ نے اس حج کے موقع پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا تھا۔