کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: اعتکاف اور لیلۃ القدر کا بیان - لیلة القدر کی علامت کا ذکر کہ اس کی صبح سورج کا روشنی بغیر شعاع کے ہوتی ہے
حدیث نمبر: 3690
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الُوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، حَدَّثَنِي زِرُّ بْنُ حُبَيْشٍ ، أَنَّهُ قَالَ لأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : " مَنْ قَامَ السَّنَةَ أَصَابَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، فَقَالَ أُبَيُّ : وَاللَّهِ الَّذِي لا إِلَهُ أَلا هُوَ ، إِنَّهَا لَفِي شَهْرِ رَمَضَانَ ، يَحْلِفُ مَا يَسْتَثْنَى ، وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْلَمُ أَنَّ لَيْلَةَ الْقَدْرِ هِيَ هَذِهِ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَقُومَهَا صَبِيحَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ، وَأَمَارَتُهَا أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فِي صَبِيحَةِ يَوْمِهَا بَيْضَاءَ لا شُعَاعَ لَهَا ، كَأَنَّهَا طَسْتٌ " .
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہیں: جو شخص سال بھر نوافل ادا کرتار ہے وہی شب قدر کو پا سکتا ہے۔ سیدنا ابی نے کہا: اللہ کی قسم! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے یہ رمضان کے مہینے میں ہوتی ہے انہوں نے قسم اٹھائی جس میں کوئی استثناء نہیں کی اور اللہ کی قسم! میں یہ بات جانتا ہوں کہ شب قدر ہی وہ رات ہے، جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم اس میں نوافل ادا کرتے رہے اور یہ ستائیسویں رات کی صبح کی بات ہے اس کی ایک مخصوص نشانی ہے کہ جب اس سے اگلے دن صبح کے وقت سورج نکلتا ہے، تو روشن ہوتا ہے، لیکن اس میں شعاع نہیں ہوتی یوں ہوتا ہے جیسے وہ طشت ہو۔