کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اعتکاف اور لیلۃ القدر کا بیان - لیلة القدر کی صبح سورج کی طلوع کی صفت کا ذکر
حدیث نمبر: 3689
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفِيَانُ ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، وَعَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ لأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : يَا أَبَا الْمُنْذِرِ ، إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : مَنْ يَقُمِ الْحَوْلَ يُصِبْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، فَقَالَ : يَرْحَمُهُ اللَّهُ ، لَقَدْ أَرَادَ أَنْ لا تَتَّكِلُوا ، وَاللَّهُ أعْلَمُ أَنَّهَا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ، وَأَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ ، وَأَنَّهَا لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ، قَالَ : قُلْنَا : يَا أَبَا الْمُنْذِرِ ، بِأَيِّ شَيْءٍ تَعْرِفُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : بِالْعَلامَةِ ، أَوْ بِالآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ مِنْ ذَلِكَ الِيَوْمِ لا شُعَاعَ لَهَا " .
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابوالمنذر آپ کے بھائی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہیں: جو شخص سارا سال رات کے وقت نوافل ادا کرتا رہے وہی شب قدر کو پا سکتا ہے۔ انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے وہ یہ چاہتے ہیں تم کسی ایک رات پر تکیہ کر کے نہ بیٹھ جاؤ، حالانکہ اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ یہ رمضان کے مہینے میں ہوتی ہے اور یہ آخری عشرے میں ہوتی ہے اور یہ ستائیسویں رات ہوتی ہے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے کہا: اے ابومنذر! آپ اس کو کس بات پر پہنچاتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: علامت کی وجہ سے، یا نشانی کی وجہ سے جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ جب اس دن کا سورج طلوع ہوتا ہے، تو اس کی شعاع نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصوم / حدیث: 3689
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1247): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3681»