کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: اعتکاف اور لیلۃ القدر کا بیان - لیلة القدر کی اس کی ہوا کے اعتدال اور روشنی کی شدت سے صفت کا ذکر
حدیث نمبر: 3688
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الزِّيَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي كُنْتُ أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، ثُمَّ نُسِّيتُهَا ، وَهِيَ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ ، وَهِيَ طَلْقَةٌ بَلْجَةٌ لا حَارَّةٌ وَلا بَارِدَةٌ ، كَأَنَّ فِيهَا قَمَرًا يَفْضَحُ كَوَاكِبَهَا ، لا يَخْرُجُ شَيْطَانُهَا حَتَّى يَخْرُجَ فَجْرُهَا " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” مجھے شب قدر دکھائی گئی پھر یہ مجھے بھلا دی گئی یہ آخری عشرے میں ہوتی ہے یہ خوشگوار اور معتدل رات ہوتی ہے، جو نہ زیادہ گرم ہوتی ہے اور نہ زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہے اور اس میں چاند ستاروں کو شرمندہ کر رہا ہوتا ہے اس کا شیطان اس وقت تک نہیں نکلتا جب تک اس کی صبح صادق نہیں ہو جاتی“ (یعنی جب تک وہ پوری رات گزر نہیں جاتی)۔