کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اعتکاف اور لیلۃ القدر کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ لیلة القدر ہر سال آخری عشرے میں منتقل ہوتی ہے، نہ کہ ہر سال ایک ہی رات میں ہو
حدیث نمبر: 3687
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالا : حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ وَهُوَ يَلْتَمِسُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، فَلَمَّا انْقَضَى ، أَمَرَ بِالْبِنَاءِ ، فَنُقِضَ ، فَأُبِينَتْ لَهُ أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ، فَخَرَجَ إِلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي قَدْ أُبِينَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ ، فَخَرَجْتُ أُحَدِّثُكُمْ بِهَا فَجَاءَ رَجُلانِ يَخْتَصِمَانِ وَمَعَهُمَا الشَّيْطَانُ ، فَنُسِّيتُهَا ، فَالْتَمِسُوهَا فِي السَّابِعَةِ ، وَالْتَمِسُوهَا فِي الْخَامِسَةِ " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا آپ شب قدر تلاش کرنا چاہتے تھے جب وہ گزر گیا، تو آپ کے حکم کے تحت خیمے کو اتار لیا گیا پھر آپ کے سامنے یہ بات ظاہر ہوئی کہ شب قدر رمضان کے آخری عشرے میں ہو گی، تو آپ لوگوں کے پاس تشریف لائے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: ” اے لوگو! شب قدر کو میرے سامنے کیا گیا، میں اس کے بارے میں تمہیں بتانے کے لیے آیا، تو دو آدمی آپس میں بحث کر رہے تھے ان کے ساتھ شیطان تھا، تو یہ مجھے بھلا دی گئی، تو تم اسے ساتویں رات میں تلاش کرو یا تم اسے پانچویں رات میں تلاش کرو ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصوم / حدیث: 3687
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1252): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3679»