کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: اعتکاف اور لیلۃ القدر کا بیان - اس بات کا بیان کہ لیلة القدر رمضان کے آخری عشرے کی باقی ماندہ طاق راتوں میں ہوتی ہے، نہ کہ گزر جانے والی طاق راتوں میں
حدیث نمبر: 3686
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : ذُكِرَتْ لَيْلَةُ الْقَدْرِ عِنْدَ أَبِي بَكْرَةَ ، فَقَالَ : مَا أَنَا بِطَالِبِهَا إِلا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ ، بَعْدَ حَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فِي سَبْعٍ يَبْقَيْنَ ، أَوْ خَمْسٍ يَبْقَيْنَ ، أَوْ ثَلاثٍ يَبْقَيْنَ ، أَوْ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ " ، فَكَانَ لا يُصَلِّي فِي الْعِشْرِينَ إِلا كَصَلاتِهِ فِي سَائِرِ السَّنَةِ ، فَإِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ اجْتَهَدَ .
عینہ بن عبدالرحمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے سامنے شب قدر کا ذکر کیا گیا، تو انہوں نے فرمایا: میں اسے صرف آخری عشرے میں تلاش کرتا ہوں، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ” تم اسے آخری عشرے میں باقی رہ جانے والی سات راتوں میں تلاش کرو، یا باقی رہ جانے والی پانچ راتوں میں تلاش کرو، یا باقی رہ جانے والی تین راتوں میں تلاش کرو، یا آخری رات میں تلاش کرو ۔“ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ رمضان کے ابتدائی بیس دنوں میں معمول کے مطابق سارے سال کی طرح نوافل ادا کرتے تھے، لیکن جب آخری عشرہ آ جاتا تھا، تو اہتمام سے عبادت کرتے تھے۔