کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اعتکاف اور لیلۃ القدر کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ معتکف اپنے اعتکاف سے صبح کے وقت نکلتا ہے، نہ کہ شام کو
حدیث نمبر: 3673
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الُوُسْطَى مِنْ رَمَضَانَ ، فَاعْتَكَفَ عَامًا حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ ، وَهِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي يَخْرُجُ صَبِيحَتَهَا مِنِ اعْتِكَافِهِ ، قَالَ : " مَنِ اعْتَكَفَ مَعِي فَلِيَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ ، وَقَدْ رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةُ ، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا ، وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ مِنْ صَبِيحَتِهَا فِي مَاءٍ وَطِينٍ ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ ، وَالْتَمِسُوهَا فِي كُلِّ وِتْرٍ " ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : فَأَمْطَرَتِ السَّمَاءُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ ، وَكَانَ الْمَسْجِدُ عَلَى عَرِيشٍ ، فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ عَلَيْنَا ، وَعَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّينِ مِنْ صَبِيحَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کرتے تھے۔ ایک سال آپ نے اعتکاف کیا، یہاں تک کہ جب اکیسویں رات آئی، تو یہ وہ رات ہے، جس کی صبح آپ نے اعتکاف گاہ سے واپس آنا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ آخری عشرے کا بھی اعتکاف کرے، کیونکہ میں نے اس رات کو دیکھا تھا، لیکن یہ مجھے بھلا دی گئی میں نے خود کو دیکھا ہے کہ میں اس رات کی صبح پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا تھا، تو تم لوگ اسے آخری عشرے میں تلاش کرو اس کو ہر طاق رات میں تلاش کرنا۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اسی رات بارش ہو گئی۔ مسجد کی چھت کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی تھی وہ ٹپکنے لگی۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے میں نے خود اپنی ان دونوں آنکھوں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نے نماز پڑھنے کے بعد ہماری طرف رخ کیا، تو آپ کی مبارک پیشانی اور مبارک ناک پر پانی اور مٹی کا نشان موجود تھا یہ اکیسویں رات کی صبح کی بات ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصوم / حدیث: 3673
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1251): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3665»