کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نفلی روزوں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا ماہ کے تین دنوں کے روزہ سے آدمی کے لیے باقی ماندہ کا اجر لکھتا ہے
حدیث نمبر: 3658
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الُوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الصَّوْمِ ، فَقَالَ : " صُمْ يَوْمًا مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " ، قُلْتُ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " صُمْ يَوْمَيْنِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " ، قُلْتُ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " صُمْ ثَلاثَةُ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " ، قُلْتُ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " إِنَّ أَحَبَّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صَوْمُ دَاوُدَ " ، وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صُمْ يَوْمًا مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " يُرِيدُ أَجْرَ مَا بَقِيَ مِنَ الْعِشْرِينِ ، وَكَذَلِكَ فِي الثَّلاثِ إِذْ مُحَالٌ أَنَّ كَدَّهُ كُلَمَا كَثُرَ كَانَ أَنْقُصَ لأَجْرِهِ .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے آپ سے روزہ رکھنے کے بارے میں دریافت کیا: تو آپ نے فرمایا: تم ہر مہینے میں ایک دن روزہ رکھ لیا کرو تمہیں باقی کا اجر مل جائے گا۔ میں نے عرض کی: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھ لو تمہیں باقی کا اجر مل جائے گا۔ میں نے عرض کی: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک روزہ رکھنے کا سب سے پسندیدہ طریقہ سیدنا داؤد علیہ السلام کا طریقہ ہے وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن روزہ نہیں رکھتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” تم ہر مہینے میں ایک دن روزہ رکھ لو تم کو باقی کا اجر مل جائے گا۔ “ اس سے مراد یہ ہے: تیس دنوں میں جو باقی رہ جائے گا اس کا اجر مل جائے گا اور ان کا بھی اس طرح حکم ہو گا کیونکہ یہ بات ممکن نہیں ہے کہ آدمی کی محنت جیسے، جیسے زیادہ ہوتی جائے اس کا اجر اتنا ہی کم ہوتا جائے۔