کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نفلی روزوں کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 3653
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صِيَامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صِيَامُ الدَّهْرِ وَإِفْطَارُهُ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَالَ وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْخَبَرِ : " وَإِفْطَارُهُ " ، وَقَالَ يَحِيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ شُعْبَةَ : " وَقِيَامُهُ " ، وَهُمَا جَمِيعًا حَافِظَانِ مُتْقِنَانِ .
معاویہ بن قرة مزنی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر پر اپنا دست اقدس پھیرا تھا، وہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ہر مہینے کے تین روزے رکھ لینا پورا مہینہ روزہ رکھنے اور افطار کرنے کے مترادف ہے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں شاید راوی کو غلط فہمی ہوئی ہے)۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): وکیع نے شعبہ کے حوالے سے اس روایت میں الفاظ نقل کیے ہیں ” اور اس کا روزہ نہ رکھنا “ جبکہ یحیی قطان نے شعبہ کے حوالے سے یہ نقل کیا ہے: ” اس کا قیام کرنا “ اور یہ دونوں حضرات حافظ اور متقن ہیں۔