کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نفلی روزوں کا بیان - اس بات کا استحباب کہ آدمی ان تین دنوں کو ایام بیض بنائے
حدیث نمبر: 3650
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ قَدْ شَوَاهَا ، وَجَاءَ مَعَهَا بِأَدَمِهَا ، فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَأْكُلْ ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَأْكُلُوا ، وَأَمْسَكَ الأَعْرَابِيُّ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَأْكُلَ ؟ " قَالَ : إِنِّي أَصُومُ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ ، قَالَ : " إِنْ كُنْتَ صَائِمًا فَصُمْ أَيَّامَ الْغُرِّ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ مُوسَى بْنُ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَسَمِعَهُ مِنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، وَالطَّرِيقَانِ جَمِيعَانِ مَحْفُوظَانِ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی گوشت بھون کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر آیا وہ اس کے ہمراہ اس کا سالن بھی لے کر آیا تھا اس نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو روک لیا آپ نے اسے کھایا نہیں آپ نے اپنے ساتھیوں کو یہ ہدایت کی کہ وہ کھا لیں اس دیہاتی نے بھی اسے نہیں کھایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: تم کیوں نہیں کھا رہے؟ اس نے جواب دیا: میں ہر مہینے کے تین دن روزے رکھتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم نے روزہ رکھنا ہی ہوتا ہے، تو چمکدار دنوں میں روزے رکھا کرو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ رضی اللہ علیہ فرماتے ہیں:): موسیٰ بن طلحہ نے یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت ابن حوتکیہ کے حوالے سے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے، تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔