کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نفلی روزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو بعض لوگوں کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ عائشہ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی ہمارے بیان کردہ خبروں کے مخالف ہے
حدیث نمبر: 3647
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ ، بِجُرْجَانَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ ، قُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، كَيْفَ كَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الأَيَّامِ ؟ قَالَتْ : " لا ، كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً ، وَأَيُّكُمْ يَسْتَطِيعُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطِيعُ ؟ " .
علقمہ بیان کرتے ہیں: میں نے اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: میں نے کہا: اے ام المؤمنین! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل کس طرح کا ہوتا تھا۔ کیا آپ کسی دن کو خاص کر لیتے تھے۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل باقاعدگی سے ہوتا تھا اور تم میں سے کون شخص اس کی استطاعت رکھتا جس کی استطاعت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکھتے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصوم / حدیث: 3647
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1240)، «مختصر الشمائل» (264): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3639»