کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نفلی روزوں کا بیان - اس بات کا استحباب کہ ایک دن روزہ اور ایک دن افطار کیا جائے کیونکہ یہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے، یا ایک دن روزہ اور دو دن افطار جو اس سے عاجز ہو
حدیث نمبر: 3639
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا خَلْفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ غَيْلانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، كَيْفَ تَصُومُ ؟ قَالَ : فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عُمَرُ ، قَالَ : رَضِينَا بِاللَّهِ رِبًا ، وَبِالإِسْلامِ دَيْنًا ، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا ، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضِبِ اللَّهِ وَغَضِبِ رَسُولِهِ ، وَجَعَلَ يُرَدِّدُهَا حَتَّى سَكَنَ مِنْ غَضِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا ؟ قَالَ : " وَيُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ ؟ " ، قَالَ : فَكَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ؟ قَالَ : " ذَاكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ " ، قَالَ : فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ ؟ قَالَ : " وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَاكَ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَمْ يَكُنْ غَضَبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَةِ هَذَا السَّائِلِ عَنْ كَيْفِيَّةِ الصَّوْمِ ، وَإِنَّمَا كَانَ غَضَبُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَنَّ السَّائِلَ سَأَلَهُ ، قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَيْفَ تَصُومُ ؟ قَالَ : فَكَرِهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتِخْبَارَهُ عَنْ كَيْفِيَّةِ صَوْمِهِ مَخَافَةَ أَنْ لَوَ أَخْبَرَهُ يَعْجِزُ عَنْ إِتِيَانِ مِثْلِهِ ، أَوْ خَشِيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّائِلِ وَأُمَّتِهِ جَمِيعًا أَنْ يَفْرِضَ عَلَيْهِمْ ذَلِكَ ، فَيَعْجِزُوا عَنْهُ .
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! آپ کیسے روزہ رکھتے ہیں؟ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ صورتحال دیکھی، تو انہوں نے عرض کی: ہم اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے اسلام کے دین ہونے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے سے راضی ہیں (یعنی اس پر ایمان رکھتے ہیں) اور ہم اللہ کے غضب اور اس کے رسول کے غضب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسلسل یہ بات دہراتے رہے، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ ختم ہوا۔ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! ایسے شخص کا کیا حکم ہو گا جو دو دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن روزہ نہیں رکھتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا کوئی ایسا کر سکتا ہے؟ انہوں نے دریافت کیا: ایسے شخص کا کیا حکم ہو گا جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن روزہ نہیں رکھتا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میرے بھائی سیدنا داؤد علیہ السلام کا روزہ رکھنے کا طریقہ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ایسے شخص کا کیا حکم ہو گا جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور دو دن روزہ نہیں رکھتا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری یہ خواہش ہے کہ مجھ میں اس کی طاقت ہو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سائل کے روزے کی کیفیت کے بارے میں دریافت کرنے کی وجہ سے غضب ناک نہیں ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات پر غضب ناک ہوئے تھے کہ اس سائل نے آپ سے یہ سوال کیا تھا کہ اے اللہ کے نبی آپ کیسے روزے رکھتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کو ناپسند کیا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کی کیفیت کے بارے میں دریافت کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندیشہ تھا کہ اگر آپ نے اس کو اس بارے میں بتا دیا تو وہ اس کی مانند روزہ نہیں رکھ سکے گا یا پھر نبی کو اس سائل اور آپ کی اُمت کے بارے میں یہ اندیشہ تھا کہ کہیں یہ ان لوگوں پر لازم نہ ہو جائے اور وہ اسے ادا نہ کر پائیں گے۔