کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نفلی روزوں کا بیان - اس بات کا استحباب کہ آدمی ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے
حدیث نمبر: 3637
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنْ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ : قَدْ صَامَ ، ثُمَّ يُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ : قَدْ أَفْطَرَ ، وَمَا رَأَيْتُهُ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ ، كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ إِلا قَلِيلا " .
ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، تاکہ ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے کے معمول کے بارے میں دریافت کروں، تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (کسی مہینے میں) اتنے نفلی روزے رکھتے تھے کہ ہم یہ سوچتے تھے کہ آپ روزے ہی رکھتے رہیں گے پھر آپ (کسی مہینے میں) نفلی روزے ترک کر دیتے تھے، یہاں تک کہ ہم یہ سوچتے تھے کہ آپ روزہ نہیں رکھیں گے۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان کے علاوہ اور کسی بھی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے رکھتے نہیں دیکھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے کچھ دنوں میں روزہ نہیں رکھتے تھے باقی پورا مہینہ روزہ رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصوم / حدیث: 3637
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2103): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3629»