کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نفلی روزوں کا بیان - اس بات کا استحباب کہ آدمی عاشوراء سے ایک دن پہلے روزہ رکھے تاکہ وہ عاشوراء کے روزہ میں احتیاط سے کام لے
حدیث نمبر: 3633
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الُوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الأَعْرَجِ ، قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ عِنْدَ زَمْزَمَ ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ ، وَنِعْمَ الْجَلِيسُ كَانَ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ عَاشُورَاءَ ؟ فَاسْتَوَى جَالِسًا ، ثُمَّ قَالَ : " عَنْ أَيِّ بَابِهِ تَسْأَلُ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : عَنْ صِيَامِهِ ، أَيَّ يَوْمٍ نَصُومُهُ ؟ قَالَ : " إِذَا رَأَيْتَ هِلالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ ، ثُمَّ أَصْبِحْ مِنْ تَاسِعِهِ صَائِمًا " ، قُلْتُ : أَكَذَلِكَ كَانَ يَصُومُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " .
حکم بن اعرج بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا وہ اس وقت زمزم کے کنویں کے پاس اپنی چادر کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں ان کے پاس بیٹھ گیا وہ بڑے بہترین ہم نشین تھے میں نے ان سے عاشورہ کے بارے میں دریافت کیا: تو وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گے۔ پھر انہوں نے دریافت کیا: تم اس کے بارے میں کسی حوالے سے پوچھنا چاہتے ہو میں نے دریافت کیا: اس کے روزے کے بارے میں کہ کون سے دن ہمیں روزہ رکھنا چاہیئے، تو انہوں نے فرمایا: جب تم محرم کا چاند دیکھ لو، تو گنتی شروع کر دو پھر تم اس کی نو تاریخ کو روزہ رکھنا میں نے کہا: کیا سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح روزہ رکھا کرتے تھے۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصوم / حدیث: 3633
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2114): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3624»