کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نفلی روزوں کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "یہ گزشتہ سال اور اس سے پہلے کے گناہ مٹاتا ہے" سے مراد صرف ایک سال ہے
حدیث نمبر: 3632
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ غَيْلانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ إِنِّي أَحْتَسِبَ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ ، وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ ، وَصِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ " .
سیدنا ابوقتاده رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں مجھے اللہ تعالیٰ سے یہ امید ہے کہ یہ اس سے پہلے کہ ایک سال کے اور اس کے بعد کے ایک سال کے (اور اس ایک سال کے) گناہوں کو ختم کر دیتا ہے اور عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ امید ہے کہ یہ اس سے پہلے کے ایک سال کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔