کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نفلی روزوں کا بیان - اس بات کا استحباب کہ اگر آدمی کا ناشتہ نہ ہو تو وہ اس دن روزہ شروع کرے
حدیث نمبر: 3630
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولابِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحِيَى ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدْخُلُ عَلَيْنَا ، فَيَقُولُ : " أَصْبَحَ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟ " ، فَنَقُولُ : لا ، فَيَقُولُ : " إِنِّي صَائِمٌ " ، قَالَتْ : وَدَخَلَ عَلَيْنَا ذَاتَ يَوْمٍ ، فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ شَيْءٍ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، حَيْسٌ أُهْدِيَ لَنَا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ أَصْبَحْتُ وَأَنَا صَائِمٌ " ، ثُمَّ دَعَا بِهِ فَطَعِمَ .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بعض اوقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لاتے آپ دریافت کرتے کیا تمہارے پاس (کھانے کے لیے) کچھ ہے؟ اگر ہم جواب دیتے: جی نہیں، تو آپ فرماتے پھر میں روزہ رکھ لیتا ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے۔ آپ نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں! ہمیں ” حیس “ تحفے کے طور پر دیا گیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح، تو میں نے روزہ رکھنے کی نیت کی تھی۔ پھر آپ نے کھانا منگوایا اور اسے کھا لیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصوم / حدیث: 3630
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مكرر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3621»