کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نفلی روزوں کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ عاشوراء کا روزہ رکھا جائے کیونکہ اس دن اللہ جل وعلا نے اپنے کلیم صلی اللہ علیہ وسلم کو نجات دی اور اس کے دشمنوں کو ہلاک کیا
حدیث نمبر: 3625
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ يَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، فَقَالَ لَهُمْ : " مَا هَذَا ؟ " ، قَالُوا : يَوْمٌ عَظِيمٌ نَجَّى اللَّهُ فِيهِ مُوسَى ، وَأَغْرَقَ آلَ فِرْعَوْنَ ، فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا لِلَّهِ ، فَقَالُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوْلَى بِمُوسَى ، وَأَحَقُّ بِصِيَامِهِ مِنْكُمْ " ، فَصَامَهُ ، وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ منورہ) تشریف لائے، تو آپ نے یہودیوں کو پایا کہ وہ عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے بتایا: یہ ایک عظیم دن ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسی علیہ السلام کو نجات عطا کی تھی اور فرعون اور اس کے ماننے والوں کو ڈبو دیا تھا، تو سیدنا موسی علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے اس دن روزہ رکھا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے مقابلے میں ہم سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ قریب ہیں اور اس دن روزہ رکھنے کے زیادہ حقدار ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھا اور آپ نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصوم / حدیث: 3625
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» -أيضا- (2112): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3616»