کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نفلی روزوں کا بیان - اس بات کا بیان کہ رمضان کے روزہ کے بعد آدمی کو عاشوراء کے روزہ میں اختیار ہے
حدیث نمبر: 3622
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ بَعْدَمَا نَزَلَ صَوْمُ رَمَضَانَ : " مَنْ شَاءَ صَامَهُ ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَهُ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں یہ فرمایا ہے یہ رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہونے کے بعد کی بات ہے۔ ” جو شخص چاہے وہ اس دن روزہ رکھ لے اور جو شخص چاہے وہ روزہ نہ رکھے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصوم / حدیث: 3622
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» -أيضا- (2111): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3613»
حدیث نمبر: 3623
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الُوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمٌ كَانَتْ تَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَهُ فَلِيَصُمْهُ ، وَمَنْ كَرِهَهُ فَلِيَدَعْهُ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” عاشورہ کا دن ایک ایسا دن ہے، جس میں زمانہ جاہلیت میں لوگ یہ روزہ رکھا کرتے تھے، تو تم میں سے جو شخص اس دن روزہ رکھنا چاہے وہ روزہ رکھ لے اور جو شخص اسے ناپسند کرے وہ اسے چھوڑ دے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصوم / حدیث: 3623
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» -أيضا-: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3614»