کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نفلی روزوں کا بیان - اس بات کا بیان کہ رمضان سے پہلے مسلمانوں پر عاشوراء کا روزہ فرض تھا
حدیث نمبر: 3621
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ ، كَانَ هُوَ الْفَرِيضَةَ ، وَتُرِكَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: عاشورہ کا دن ایک ایسا دن تھا جس میں قریش زمانہ جاہلیت میں روزہ رکھا کرتے تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو آپ نے اس دن روزہ رکھا اور اس دن روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا جب رمضان فرض ہوا، تو وہ فرض قرار پایا اور عاشورہ کے دن کو ترک کر دیا گیا، تو جو شخص چاہتا تھا وہ (عاشورہ کے دن) روزہ رکھ لیتا تھا اور جو شخص چاہتا تھا وہ ترک کر دیتا تھا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصوم / حدیث: 3621
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2110): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3612»